غزہ کے شہریوں کی قبلہ اول میں نماز جمعہ کے لئے آنے پرنئی پابندیاں
مقبوضہ بیت المقدس22جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)اسرائیلی حکام نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نمازیوں کے قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائی پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے300شہریوں کو ہرجمعہ کے موقع پرمسجد اقصیٰ آنے کی اجازت دی گئی تھی مگر اب یہ تعداد نصف کم کرتے ہوئے 150کردی گئی ہے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ کی پٹی اور غرب اردن کو باہم ملانے والی بیت حانون گذرگاہ کیراستے بیت المقدس جانے والے شہریوں کی تعداد کم کرنے کااعلان کیا۔اسرائیل کے عبرانی ٹی وی کے مطابق صہیونی حکام کی جانب سے غرب اردن سے اردن سفر کرنے والے فلسطینی شہریوں کی تعداد بھی 100کے بجائے ہفتہ وار تعداد 80کردی ہے۔صہیونی حکام کے اس تازہ حکم نامے سے غزہ کے نمازی اور غرب اردن کے مریض اور کاروباری حضرات براہ راست متاثر ہوں گے۔ادھر غزہ کی پٹی میں فلسطینی محکمہ سول امور کے ترجمان محمد المقادمہ نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے مسافروں کی تعداد کم کرنے کا مقصد نام نہاد سیکیورٹی انتظامات کوبہتربنانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بے جا پندیاں فلسطینی شہریوں کی زندگی اجیرن بنانیاور ان کے مذہبی امور میں مداخلت کی کھلی سازش ہیں۔ اسرائیل ایک سازش کے تحت غرب اردن کے شہریوں کو بیرون اور غزہ کی پٹی کے لوگوں کو بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی پر پابندی عاید کررہا ہے۔